گورنربھی اپنے سیاسی آقاؤں کی ہی بات مانتے ہیں: شیوسینا
ممبئی، 19اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)این ڈی اے حکومت بننے کے بعدصرف بھگوا لیڈران کو ہی گورنر مقرر کیے جانے پر اپنی اتحادی بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے شیوسینا نے آج کہا کہ اسے اس عہدے کیلئے اپنے ساتھیوں کے قابل اوراہل لوگوں پر بھی غور کرنا چاہئے۔شیوسینا نے اپنے ترجمان اخبار ’’سامنا‘‘میں لکھا کہ جہاں تک گورنروں کی تقرری کا مسئلہ ہے تو بی جے پی حکومت میں بھی صورتحال یو پی اے حکومت سے مختلف نہیں ہے۔منی پور اور پنجاب میں جلد انتخابات ہوں گے۔ اس طرح نئے مقررافرادکے پاس ان کاسیاسی فرض پورا کرنے کا موقع ملے گا۔اس نے کہاکہ یہ علامت ہے کہ راج بھون بحران کے وقت سیاسی اکھاڑا بن گیاہے۔اس وقت ریاستی گورنر کی خواہشات کے مطابق چلتا ہے اور وہ اپنے سیاسی آقاؤں کی ہی بات مانیں گے۔اس نے طعنہ مارتے ہوئے کہا کہ آج ملک میں گورنروں کی فہرست دیکھتے ہوئے یہ یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ جو لوگ اپنے سیاسی کیریئر کے آخرمیں ہیں، انہیں اس عہدے پر مقرر کیا گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ حکمراں پارٹی تقریباََ40لوگوں کوبنگلہ،کاراوردیگرسہولیات جو گورنر اور لیفٹیننٹ گورنر کے عہدے کے لئے ہیں، دے کر ان کی بحالی کرا سکتا ہے۔شیو سینانے کہا کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد مرکز کی طرف سے مقرر تمام گورنر حکمراں پارٹی سے ہیں اور ان میں کوئی بھی اتحادی جماعتوں سے نہیں ہے ۔اس نے کہا کہ اگر سیاسی شخص اس عہدے کے لئے مقرر کیا جاتاہے تو ٹی ڈی پی،اکالی دل،شیوسینا جیسے اتحادی جماعتوں کے پاس بھی سابق ممبر پارلیمنٹ، سابق ممبر اسمبلی اور سابق وزیر ہیں جو یہ ذمہ داری لینے کوتیار ہیں۔اتحادی جماعتوں کے کچھ لوگوں کو مقرر کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے۔